بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کلمہ طیبہ کا ثبوت

سوال

كلمہ طیبہ کا ثبوت کہاں سے ثابت ہے ؟

جواب

کلمہ طیبہ اسلام کے بنیادی  عقیدے کا اقرار کرنا ہے ، قرآن پاک میں متفرق جگہوں پر اور احادیث میں کہیں ایک ساتھ اور کہیں متفرق طور پر  کلمہ طیبہ کا ذکر ملتاہے ، مزید تفصیل کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں:کلمہ طیبہ کا ثبوت

مستدرک للحاکم میں ہے :

"حدثنا علي بن حمشاذ العدل، إملاء، ثنا هارون بن العباس الهاشمي، ثنا جندل بن والق، ثنا عمرو بن أوس الأنصاري، ثنا سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: "أوحى ‌الله ‌إلى ‌عيسى عليه السلام يا عيسى آمن بمحمد وأمر من أدركه من أمتك أن يؤمنوا به فلولا محمد ما خلقت آدم ولولا محمد ما خلقت الجنة ولا النار ولقد خلقت العرش على الماء فاضطرب فكتبت عليه لا إله إلا الله محمد رسول الله فسكن" هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه."

(‌‌كتاب تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين  ج: 2 ص: 671 ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100961
تاریخ31-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں