بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غلامِ محمد اور غلامِ احمد نام رکھنے کا حکم

سوال

غلامِ محمد اور غلامِ احمد نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

 "غلامِ محمد"    نام کا معنیٰ ہے"محمد کا غلام"اور"غلامِ احمد"   نام کا معنیٰ ہے"احمد کا غلام" یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام اور خادم،یہ دونوں   نام  رکھنا درست ہے، اور مراد یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أقول: ويؤخذ من قوله ولا عبد فلان ‌منع ‌التسمية بعبد النبي ونقل المناوي عن الدميري أنه قيل بالجواز بقصد التشريف بالنسبة، والأكثر على المنع خشية اعتقاد حقيقة العبودية كما لا يجوز عبد الدار."

(‌‌‌‌كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص:418، ط: سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

سوال:"غلام محمد،غلام نبی اور غلام رسول اور رسول بخش نام رکھنا جائز ہے یا ناجائز؟"

جواب:"غلام محمد،غلام نبی اور غلام رسول نام رکھنا درست ہے،اور رسول بخش نام نہیں رکھنا چاہیے۔"فقط واللہ اعلم

(باب الاسماء، ج:19، ص:374، ط: ادارۃ الفاروق کراچی)

احسن الفتاوی میں ہے:

سوال:"اس قسم کے نام رکھنے کا کیا حکم ہے:غلام غوث،غلام احمد،،غلام مصطفےٰ،عبد الرسول،عبد النبی،عبد العلی وغیرہ"۔

جواب:"غلام غوث اور غلام احمد وغیرہ نام   رکھنے میں کوئی حرج نہیں،عبد الرسول وغیرہ ایسے نام رکھنا جس میں عبد کی اضافت غیراللہ کی طرف کئی گئی ،موہم شرک ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،البتہ ایسے شخص کو مشرک نہیں کہا جائے گا،کیوں کہ عبد سے خادم ار مطیع مراد لیا جا سکتا ہے"۔فقط واللہ اعلم

(الحظر والاباحۃ، متفرقات، ج:8، ص:174، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100959
تاریخ30-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں