روایت: عمار المساجد اللہ تعالی کے پڑوسی ہیں، کی تحقیق
سوال
کیا یہ حدیث احادیث کی کتابوں میں موجود ہے ؟ رہنمائی فرمائیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: اللہ رب العزت قیامت کے دن پکاریں گے کہ میرے پڑوسی کہاں ہیں؟ میرے پڑوسی کہاں ہیں؟ فرشتے کہیں گے کہ اے ہمارے رب! آپ کا پڑوسی ہونا کس کو زیب دیتا ہے؟ اللہ پاک فرمائیں گے : مسجد کو بنانے اور آباد رکھنے والے کہاں ہیں؟
جواب
سوال میں آپ نے جس حدیث سے متعلق دریافت کیا ہے، یہ حدیث "مسند الحارث بن محمد بن أبي أسامة" میں موجود ہے، اس کے الفاظ درج ذیل ہیں:
حدَّثنا مُحمَّدُ بن جَعفَر الوَرَكانيُّ، ثَنا مُعمَّر بن سُلَيمان، عن فَيَّاض بن غَزْوَان، عن مُحَمَّد بن عَطِيَّة، عن أنس قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «إنَّ اللهَ لَيُنادي يومَ القِيَامةِ: أَينَ جِيرَانِي؟ أَينَ جِيرَانِي؟ قَالَ: فَتَقولُ المَلائِكَةُ: رَبَّنَا وَمَن يَنبَغِي أَن يُجَاوِرَكِ؟ فَيَقُولُ: أَينَ عُمَّارُ المَسَاجِد؟»
«بُغيَةُ الباحثِ عن زوائد مسند الحارث للإمام نور الدِّين الهَيثَمِي، کتاب الصَّلاة، بابٌ في عُمَّار المساجد، 1/251، رقم: 126، ط: مركز خدمة السُّنَّة والسِّيرة النبويَّة، الطَّبعة الأولى: 1992، تحقيق: د. حُسين أحمد صالح الباكري»
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" اللہ تعالی قیامت کے دن پکاریں گےکہ میرے پڑوسی کہاں ہیں؟ میرے پڑوسی کہاں ہیں؟ فرشتے کہیں گے کہ اے ہمارے رب! آپ کا پڑوسی ہونا کس کو زیب دیتا ہے؟ اللہ پاک فرمائیں گے مسجد کو بنانے اور آباد رکھنے والے کہاں ہیں؟"
اس روایت میں محمد بن عطیہ صدوق کے درجہ کے ہیں اور باقی روات ثقہ ہیں،اور اس کا معنی بھی صحیح ہے، لہذا اس کو بیان كرنا درست ہے۔
فقط واللهُ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

