بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر تحقیق کے علی التعیین کسی کو گمراہ نہیں کہنا چاہیے

سوال

علامہ تفتازانی کیا سچ میں گمراہ تھا؟

جواب

بغیر کسی تحقیق کے یا عقائدونظریات کو بیان  کیے بغیرعلی التعیین کسی کے متعلق گمراہ جیسے الفاظ استعمال کرنا درست نہیں ، اگر آپ کو علامہ سعدالدین تفتازانی رحمہ اللہ کے کسی عقیدہ ونظریہ سے متعلق کوئی شبہ ہے تو سوال کو واضح تحریر کرکے ارسال کریں، اس کے متعلق جواب دیا جائےگا۔

باقی علامہ تفتازانی شافعی  ہیں، اہلِ سنت والجماعت میں سے  ہیں ، ان کے عقائد و نظریات صحیح  ہیں وہ گمراہ نہیں ہیں۔

صحيح البخاري میں ہے:

"عن أبي ذر رضي الله عنه أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يرمي رجل رجلا بالفسوق، ولا يرميه بالكفر، إلا ارتدت عليه، إن لم يكن صاحبه كذلك»".

(کتاب الادب، باب ما ينهى من السباب واللعن، رقم الحدیث:6045، ج:8، ص:15، ط:دارطوق النجاۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100893
تاریخ29-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں