بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں تلاوت کے دوران آیت کے چھوٹ جانے کا حکم

سوال

فرض نماز کے دوران کسی  سورت کی آیات چھوٹ جائیں  اور رکوع میں چلے جائیں، تو کیا کریں؟

جواب

فرض نماز  میں قراءت کے دوران مقدار ِواجب (یعنی تین چھوٹی آیتیں  یا ایک بڑی آیت) پڑھنے کے بعد پوری ایک آیت چھوڑ دی یا بعض الفاظ چھوڑ دیے اور اس چھوڑنے سے معنی میں  ایسی کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی ہو  جو مفسدِ صلاۃ ہو،تو ایسی صورت میں نماز صحیح ہو جائے گی  ،نماز کو لوٹا نا اور سجدہ سہو کرنا لازم نہیں ہو گا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

" ولو ‌زاد ‌كلمة أو نقص كلمة أو نقص حرفا،أو قدمه أو بدله بآخر نحو من ثمره إذا أثمر واستحصد - تعالى جد ربنا - انفرجت بدل - انفجرت - إياب بدل - أواب - لم تفسد ما لم يتغير المعنى إلا ما يشق تمييزه كالضاد والظاء فأكثرهم لم يفسدها وكذا لو كرر كلمة۔"

(كتاب الصلاة ،باب الامامة،ج:1،ص:632،ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100891
تاریخ29-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں