امریکہ سے ڈالر بھیج کر پاکستان میں اس کے بدلے میں روپیہ لینے کا حکم
سوال
امریکا سے ڈالر بھیجنا اور یہاں اس کے بدلے میں پاکستانی کرنسی لینا، اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں امریکہ سے ڈالر بھیج کر اس کے بدلے میں پاکستان میں روپے وصول کرنے کا معاملہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ حوالہ کرنے والا اپنی اجرت الگ سے مقرر کرے ،کسٹمرز کی دی ہوئی رقم میں سے اجرت کی کٹوتی نہ کرے، نیز مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہی وہ ریٹ دے، مارکیٹ ریٹ سے کم یا زیادہ طے کر کے لین دین کرنا جائز نہیں ہے۔
تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"الدیون تقضیٰ بأمثالها".
(کتاب البیوع، باب القرض، 1/ 500، ط: قديمي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"و في الأشباه: کل قرض جر نفعاً حرام".
(کتاب البیوع، فصل فی القرض، 5/ 166، ط: سعید)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

