بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس کو حضور صلی اللہ علی وسلم کا آخر الانبیاء ہونا معلوم نہ ہو اس کا حکم

سوال

ایک بندہ  مسلمان ہے اپنی تمام عبادات کرتا ہے لیکن اسے عقیدہ ختم نبوت کا کچھ علم ہی نہیں ہے نہ کبھی اس نے اس عقیدہ کے بارے میں کچھ معلومات کی ہیں کیا ایسے شخص کو کافر کہنا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص  اگر  اس بات کو جانتا ہے اور عقیدہ رکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی  ہیں گو کہ اس کو عقیدہ ختم نبوت کی تفصیلات کا علم نہ ہو تو مذکورہ  شخص کو کافر کہنا درست نہیں،اور اگر اس کو  یہ معلوم نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  آخری نبی ہیں تو ایسا آدمی مو من کہلانے کا مستحق نہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات قطعیہ مثلاً " خاتم النبیین " وغیرہ کا ماننا بھی ضروری ہے،  لہذا مذکورہ شخص کو چاہیے ضروریات دین (بنیادی، واساسی عقائد) کا علم حاصل  کرے،  اور اس پر ایمان رکھے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"سمعت بعضهم يقول: إذا لم يعرف الرجل أن محمدا - صلى الله عليه وسلم - آخر الأنبياء عليهم وعلى نبينا السلام فليس بمسلم كذا في اليتيمة."

(کتاب السیر، الباب التاسع في أحكام المرتدين، مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام، ج:2، ص:263، ط:رشيديه)

فتاوی بزازیہ علی ھامش الھندیۃ میں ہے:

"واما الايمان بسيدنا عليه الصلاة والسلام فيجب بانه رسولنا وخاتم الانبياء والرسل فاذا آمن بانه رسول ولم يومن بانه خاتم الرسل لا ينسخ دينه الي يوم القيامة لا يكون مؤمنا".

(كتاب الفاظ تكون اسلاما او كفرا او  خطأ، الثالث في الانبياء، ج:6، ص:327، ط:رشيديه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100628
تاریخ27-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں