بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تشہد میں شہادت کی انگلی اٹھانے کے بعد ہاتھ کھول دیں یا حلقہ باندھ کر رکھیں؟

سوال

 ہم نماز میں شہادت کی انگلی اٹھانے کے بعد واپس ہاتھ کھول دینا چاہیے یا سلام پھیرنے تک اسی حالت میں انگلی رکھنی چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں تشہد میں  لا إله پر  شہادت کی انگلی اٹھائیں اور  إلا اللہ پر انگلی جھکا دیں اور اس کے بعد اخیر قعدے تک اسی طرح حلقہ باندھے رکھیں۔

عمدۃ الفقہ میں ہے:

"جب   أشهد أن لا إله إلا الله پر پہنچے تو  شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ   سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور  بیچ کی انگلی  سے حلقہ باندھ لے  اور چھنگلیا اور اس کے پاس والی انگلی کو(مٹھی کی طرح ) بند کر ے  اور کلمہ کی انگلی اٹھا کر اشارہ کرے، لا إله  پر انگلی اٹھائے  اور    إلا الله پر جھکا دے اور پھر اخیر قعدہ تک اسی طرح حلقہ باندھے رکھے۔"

(كتاب الصلاۃ، نماز کی پوری ترکیب، 2/111، ط: زوار اکیڈمی)

مجموعہ رسائل ابن عابدین میں ہے:

"وروي عن أئمتنا الثلاثة أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد أنه يشير عند التشهد وأنه يعقد أصابعه على ما مر من اختلاف الكيفية وظاهر كلامهم أنه لا ينشرها بعد العقد بل يبقيها كذلك لأن المذكور في هذه الرواية العقد ولم يذكروا النشر بعده".

(رسالة: رفع التردد في عقد الأصابع عند التشهد، 1/127، ط: سهيل أكيدمي)

وفيه أيضاً:

"والصحيح المختار عند جمهور أصحابنا أنه يضع كفيه على فخذيه ثم عند وصوله إلى كلمة التوحيد يعقد الخنصر والبنصر ويحلق الوسطى والإبهام ويشير بالمسبحة رافعا لها عند النفي وواضعا لها عند الإثبات ثم يستمر على ذلك لأنه ثبت العقد عند الإشارة بلا خلاف ولم يوجد أمر بتغييره فالأصل بقاء الشيئ على ما هو عليه واستحصابه إلى آخر  أمره".

(تتمة رسالة: رفع التردد في عقد الأصابع عند التشهد، 1/134، أيضاً)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100505
تاریخ26-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں