بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امامہ نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا  " امامہ" نام رکھنا جائز ہے؟

جواب

کسی بچی کا نام" اُمَامَہ "(ہمزہ کے پیش کےساتھ) رکھنا نا صرف جائز بلکہ افضل ہے، کیوں کہ "امامہ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کا نام ہے، جو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اِ س پوتی سے محبت فرمایا کرتے تھے۔

"الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب" میں ہے:

"‌أمامة ‌بنت ‌أبي العاص بن الربيع بن عبد العزى بن عبد شمس بن عبد مناف: أمها زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، [ولدت على عهد رسول الله صلى الله عليه] وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحبها، وكان ربما حملها على عنقه في الصلاة."

(كتاب النساء وكناهن، باب الألف، ج:4، ص:1788، ط:دارالجيل)

فقط والله اعلم بالصواب

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100398
تاریخ24-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں