بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھینس کا کتنا حصہ دودھ بیچ سکتے ہیں؟

سوال

میں نے ایک بھینس پالی ہے، اس کا کتنا دودھ بیچ سکتی ہوں اور کتنا حصہ بچھڑے کا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھینس کے مالک کو اس کا مکمل دودھ بیچ کر اس سے نفع کمانے کا مکمل حق ہے، تاہم جب اس بھینس کا بچہ ہو تو اس بچہ پر رحم کا تقاضا یہ ہے کہ اس بچھڑے کو جتنے دودھ کی ضرورت ہو، وہ اس کے لیے چھوڑدیا جائے اور باقی فروخت کرناہوتوکردیں۔ 

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:

"كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال".

(الكتاب العاشر: الشركات، الباب الثالث، ص: 230، المادۃ، 1192، ط: نور محمد آرام باغ)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہےِ

"كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير".

(الكتاب العاشر: الشركات، الباب الثالث، 3/ 201، المادۃ: 1192، ط: دار الجیل)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100388
تاریخ24-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں