بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلمان کے لیے بت کے سامنے ہاتھ جوڑنے کا حکم

سوال

کیا ایک مسلمان سیاست دان بت کی تعظیم کے لیے بت کے سامنے ہاتھ جوڑ سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بت کی تعظیم سے مقصد اگر اس کو معبود سمجھنا ہے تو بت کے سامنے اس طرح ہاتھ جوڑ کر تعظیم کرنا کفر ہے، تاہم اگر اس کو معبود نہیں سمجھتا ہے محض کسی سیاسی مقصد کی غرض سے اس کے سامنے ہاتھ جوڑا تویہ گناہِ کبیرہ ہے، اور ایساکرنا حرام ہے،اس سے توبہ استغفار کرنا لازم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وكذا) ما يفعلونه من (تقبيل الأرض بين يدي العلماء) والعظماء فحرام والفاعل والراضي به آثمان لأنه يشبه عبادة الوثن وهل يكفران: على وجه العبادة والتعظيم كفر وإن على وجه التحية لا وصار آثما مرتكبا للكبيرة".

(كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء، ج:6، ص:383، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100310
تاریخ23-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں