بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میکے میں قصر نماز کا حکم

سوال

شادی شدہ بیٹی میکے میں نماز قصر پڑھے گی یا پوری پڑے گی ؟

جواب

   شادی کے بعدعورت کا میکہ  شوہر کے  شہر سے اگر  سفر کی مسافت (سوا ستتر کلو میٹر) پر واقع ہے اور عورت میکہ جاکر  پندرہ یوم سے کم قیام  کرتی ہے    تو اس صورت میں عورت اپنے میکے میں قصر نماز ادا کرے گی۔اور اگر پندرہ دن سے زیادہ قیام کرتی ہے  یا میکہ مسافتِ سفر سے کم پر واقع ہے تو مکمل نماز ادا کرے گی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"مطلب في أن الأوطان ثلاثة

(ثم) الأوطان ثلاثة: وطن أصلي: وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها.

(ووطن) الإقامة: وهو أن يقصد الإنسان أن يمكث في موضع صالح للإقامة خمسة عشر يومًا أو أكثر.

(ووطن) السكنى: وهو أن يقصد الإنسان المقام في غير بلدته أقل من خمسة عشر يومًا."

(کتاب الصلاۃ،فصل بيان ما يصير المسافر به مقيما،ج1،ص103،ط؛دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100252
تاریخ22-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں