بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردکا عورت کےدودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی

سوال

 مرد عورت کا اگر  دودھ پی لے تو کیا حکم ہے؟

جواب

رضاعت کی مدت کے سوا   عورت کا دودھ استعمال کرنا خواہ شوہر کرے یا كوئی اور   حرام ہے ،لیکن مدتِ رضاعت  کے بعد شوہر کے دودھ پینے سےنكاح پرکوئی اثر نہیں پڑے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولم يبح الإرضاع بعد موته) ‌لأنه ‌جزء ‌آدمي ‌والانتفاع ‌به ‌لغير ‌ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية. وفي البحر: لا يجوز التداوي بالمحرم في ظاهر المذهب، أصله بول المأكول كما مر."

(کتاب النکاح ،باب الرضاع ،ج:3،ص:211،ط:سعید)

الخانیہ علی ہامش الہندیہ میں ہے:

"اذا مص الرجل ثدي امراته و شرب لبنها لم تحرم عليه امراته لما قلنا انه لا رضاع بعد الفصال."

(کتاب النکاح ، باب الرضاع ،ج:1،ص:417،ط:ماجدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100020
تاریخ19-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں