بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میٹر خراب ہونے کی صورت میں بجلی کا بل کس طرح ادا کیا جائے؟

سوال

میٹر خراب ہونے کی صورت میں جو بجلی استعمال کی  اس کا حکم

فتوی نمبر 144501102224

سوال:

ایک بندے نے میٹر لگایا ہے اور پھر وہ میٹر خراب ہوگیا تو بندے نے واپڈا کو اطلاع دی کہ ہمارا میٹر خراب ہو گیا لیکن وہ ٹھیک کرنے کے لئے نہ آئے اور اسی طرح وہ دو سال تک بجلی استعمال کرتے رہے بغیر بل کے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے اور جو دو سال بجلی استعمال کی ہے اس کا ازالہ کیسے کیا جائے گا؟

جواب:

صورتِ مسئولہ میں جب بجلی کے متعلقہ ادارے کو میٹر کی خرابی کی اطلاع دے دی تھی اور اس کے باوجود ا وہ میٹر درست کرنے یا تبدیل کرنےنہیں آئے تو اس میں سائل گناہ گار نہیں تاہم جتنی بجلی خرچ کی ہے اس کی ادائیگی لازم ہے، اندازہ معلوم کرنے کے لیے اپنا ایک سب میٹر لگا کر ایک ماہ تک استعمال کریں اندازہ ہو جائے گا، پھر ادائیگی کر دیں۔فقط و اللہ اعلم

اب سوال یہ ہے کہ بجلی کا بل کس طرح ادا کیا جائے؛  تاکہ مستحقین کو پہنچ جائیں؛ کیوں کہ  آج کل کے دور میں عدم اعتماد کی وجہ سے مستحقین کو پہنچانا مشکل ہے۔

جواب

ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ واپڈا کے دفتر میں جاکر ادا کریں اور  رسید لے لیں،اگر ایسے کوئی صورت نہ ہو تو پڑوسی میں جس کا بل زیادہ آیا،  لیکن اس نے کم استعمال کیا تو اس کے ساتھ ملا کر ادا کریں۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144502100012
تاریخ19-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں