بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر قضا روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو قضا کیسے کریں؟

سوال

اگر کسی شخص کے مختلف قسم کے روزے قضا  ہوں،  یعنی قضا  روزے، کفارے کے روزے،  قسم کے روزے۔  اور یاد نا ہو کے کتنے قضا  ہیں تو وہ قضا  کیسے کرے گا؟

جواب

 اگر کسی شخص کے ذمے  رمضان اور کفارے کے روزے ہوں،  جب کہ اس کو تعداد معلوم نہ ہو تو  غور وفکر کرکے ایک تعداد متعین کرکے روزے ادا کرے،اگر یقین سے کوئی عدد متعین نہ کرسکے تو   ظن غالب پر عمل کرے یعنی جس عدد  کے متعلق غالب گمان ہو،اتنی ہی اپنے اوپر روزے فرض سمجھے اور ان کی قضا کرے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

" من لايدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء".

(کتاب الصلوۃ، باب قضاء الفوائت، ص:447، ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102836
تاریخ17-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں