بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج مین خواتین کے لیے سجدہ کرنے کا کوئی الگ طریقہ نہیں ہے

سوال

 کیا حج میں عورتیں مردوں کی طرح سجدہ کریں گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عورتوں کے سجدہ کرنے کے طریقہ میں حج اور غیرِ حج کاکوئی فرق نہیں ہےیعنی  خواتین  جس طرح عام حالات میں سجدہ کرتی ہیں اسی طرح حج میں بھی سجدہ کریں گی۔

"رد المحتار علی الدر المختار"میں ہے:

"(والمرأة تنخفض) فلا تبدي عضديها (وتلصق بطنها بفخذيها) لأنه أستر."

(ص:٥٠٤،ج:١،کتاب الصلاۃ،فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها،ط:ایج ایم سعید)

"الفتاوي الهندية"میں ہے:

"والمرأة لا تجافي في ركوعها وسجودها وتقعد على رجليها وفي السجدة تفترش بطنها على فخذيها كذا في الخلاصة."

(ص:٧٥،ج:١،کتاب الصلاۃ،الباب الرابع،الفصل الثالث،ط:دار الفکر،بیروت)

"بدائع الصنائع"ميں ہے:

"وهذا في حق الرجل فأما المرأة فينبغي أن تفترش ذراعيها وتنخفض ولا تنتصب كانتصاب الرجل وتلزق بطنها بفخذيها لأن ذلك أستر لها."

(ص:٢١٠،ج:١،کتاب الصلوة،فصل بيان حكم التكبير أيام التشريق،ط:دار الکتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102755
تاریخ16-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں