بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چہرے کا پردہ اور شادی کے لیے لڑکے کے اوصاف

سوال

اگر پردےکی وجہ سے شادی نہیں ہورہی ہو تو کیا چہرے کا پردہ چھوڑ سکتے ہیں؟ شادی کے لئے ایک لڑکے میں کیا کیا چیزیں دیکھنی چاہیے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  جس طرح عورت  کے لیے پورے جسم  کا پردہ ضروری ہے  اسی طرح  چہرے کا پردہ بھی ضروری ہے ، جب   خیر القرون میں ازواجِ مطہرات اور صحابیات  رضوان اللہ علیہن  جیسی پاکیزہ ہستیوں کو چہرے کے پردے کا حکم ہوا  اور انہوں نے اس کا اہتمام کیا ،تو آج کے  اس پر فتن دور میں  تو  اور بھی زیادہ اہتمام کی ضرورت ہے ، لہذا پردے کی وجہ سے رشتے  نہیں ہو رہے تو  اس وجہ سے پردہ ہی چھوڑدیا  جائے، یہ جائز نہیں ہے،  دین دار گھرانے  میں رشتہ کیا جائے تو پردے کے حوالے سے ان شاء اللہ تعالیٰ مسائل نہیں ہوں گے۔

اسی طر ح  شادی کے لیے لڑکے میں چند اوصاف دیکھ لیے جائیں:  اسلامی عقائد میں کسی قسم کا شک شبہ نہ ہو ،یا تمسخر واستہزاء سے پیش نہ آئے ،   طبیعت میں   صلاحیت ہو کہ اہلِ  علم اور بزرگوں کا ادب کر تا ہو ،نرم خو ہو (یعنی نرم مزاج ہو)، اپنے متعلقین کے حقوق ادا کر نے کی اس سے توقع ہو، بقدر ضرور ت مالی گنجائش ہو نا ضروری ہے ، قوت اکتساب ہو ( یعنی کمانے کی قوت  ) ،        کفاءت   (برابری)  میں زیادہ تفاوت  نہ ہو۔ (اسلامی شادی  ،ص 81، دار الاشعات)

قرآنِ کریم بھی ہمیں اس کی طرف راہ نمائی کرتا ہے کہ عورت کے چہرہ کا پردہ ہے، چنانچہ ارشاد ہے: 

" يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ."﴿الأحزاب: ٥٩﴾

ترجمہ: ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی ازواجِ مطہرات، اپنی بیٹیوں اور مؤمن عورتوں سے فرمادیجیے کہ اپنے (چہروں) پر پردے لٹکالیا کریں۔‘

اسی طرح یہ حکم بھی چہرے کے پردے کی طرف متوجہ کرتا ہے: 

" وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ." ﴿الأحزاب: ٥٣﴾

ترجمہ: ’’جب ازواج مطہرات سے کچھ پوچھنا ہو تو پردے کے پیچھے سے پوچھا کریں۔‘‘ 

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102722
تاریخ15-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں