درود شریف کے مخصوص الفاظ سے متعلق سوال
سوال
میں یہ درود شریف پڑھا کرتا ہوں لیکن مجھے اس کے اخری الفاظ کے معنی کےبارے میں کہیں سے واضح جواب نہیں مل سکا کہ آیا میں درست پڑھتا ہوں یا میری مسجد کے امام صاحب درست پڑھتے ہیں۔ "اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰى اٰلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنَا مُحَمَّدٍ ، وَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ+ (وصلو علیه) یا ( وصل علیه)؟"
جواب
بصورتِ مسئولہ مذکورہ درود شریف کے الفاظ دو طرح پڑھے جاسکتے ہیں:
1- "اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰى اٰلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنَا مُحَمَّدٍ ، وَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ عَلَیْه."
2- "اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰى اٰلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنَا مُحَمَّدٍ ، وَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ وَ صَلِّ عَلَیْهِ."
اور اگر آخر میں "صلوا علیه" ، ہو تو یہ مذکورہ درود شریف کا حصہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ مستقل جملہ ہوگا جس میں مخاطبین کو بھی درود پڑھنے کی دعوت دینا ہے۔
باقی آپ کے امام صاحب کیا الفاظ پڑھتے ہیں، اس بارے میں ان ہی سے معلوم کرلیجیے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

