بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا وسوسہ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

سوال

یوسف کو دل میں وسوسہ آیا کہ اگر اس نے دودھ نہ پیا تو ریشم کو طلاق اس نے خوف کی وجہ سے دودھ پی لیا،ااور کہا اب نہیں ہوگی، دودھ پی لیا ہے، اسے معلوم ہےکہ یہ وہم ہے، کیا اس کی طلاق تو نہ ہوئی؟

جواب

واضح رہے کہ محض وسوسہ کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ وسوسہ کی وجہ سے کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہو ئی،نکاح بدستور قائم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس و الإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.و به ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، و كذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لايقع به طلاق و إن نواه."

(کتاب الطلاق، ج:3 ص:230 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102693
تاریخ15-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں