بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی بیٹی کا حصہ

سوال

ہماری مرحوم دادی نےشادی کےبعدزمین نہ ہونے کی وجہ سےہمارےعلاقےکےوڈیرےسےرہنےکےلیے زمین مانگ لی تووڈیرےنےاسے ایک زمین دےدی۔ہمارےداداجی کی ایک بیوی پہلے سے بھی تھی اس سےایک لڑکی بھی ہےکیاہماری دادی کی اس جائیداد میں اس لڑکی کاکوئی حصہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر وڈیرے نے دادی کو مذکورہ زمین  صرف رہائش کے لیے دی تھی مالک نہیں بنایا تھا تو مذکورہ زمین دادی کی ملکیت میں شمار نہیں ہوگی لہذا اس صورت میں وہ دادی کا ترکہ شمار نہیں ہوگی، اور اگر وڈیرے نے دادای کو زمین مالکانہ طور پر دی تو اس صورت  مذکورہ زمین دادی کی ملکیت میں  شمار ہوکر دادی کے ترکہ میں تقسیم ہوگی، البتہ دادی کی سوتیلی بیٹی کا دادی کی مذکورہ جائیداد میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويستحق الإرث برحم ونكاح) صحيح  (وولاء)".

(کتاب الفرائض، ج:6، ص:762، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102608
تاریخ15-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں