بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گستاخِ رسول ﷺ کی سزا کے نفاذ کے ذمہ داری کس پر ہے ؟

سوال

اگر کوئی شخص کسی مسلمان کے سامنے نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی  کرے تو کیا اسے فوراً مار دینا  چاہیے؟ یا اسے پولیس کے حوالے کر دینا چاہیے؟

جواب

پاکستان  کے قانون کے آرٹیکل 295 C کے تحت گستاخِ رسول ﷺ کی سزا بطورِ حد قتل ہے، اور اس جرم کے پائے جانے اور اقرار  یا  شرعی  گواہوں  کی  گواہی  سے یہ  ثابت ہو جانے کی صورت میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس سزا کا اطلاق کرے۔ ہرکس و ناکس اس طرح کی سزا جاری کرنے کا مجاز نہیں ہے؛ لہذ ا صورتِ مسئولہ میں ایک عام آدمی کے لیے اسے قتل کرنا جائز نہیں،بلکہ  قانونی ذریعہ اختیار کرے اور پولیس  کے حوالے کرے۔

کتاب الخراج لأبي يوسف میں ہے:

"من سب رسول الله صلى الله عليه وسلم عياذًا بالله.

قال أبو يوسف: وأيما رجل مسلم سب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو كذبه أو عابه أو تنقصه؛ فقد كفر بالله وبانت منه زوجته؛ فإن تاب، و إلا قتل. وكذلك المرأة؛ إلا أن أبا حنيفة قال: لا تقتل المرأة وتجبر على الإسلام."

(فصل فی حکم المرتد عن الإسلام والزنادقه، ص:199، ط:المکتب الأزهریة)

النتف في الفتاوى میں ہے:

"و السابع من سب رسول الله الله صلى الله عليه و سلم فإنه مرتد و حكمه حكم المرتد و يفعل به ما يفعل بالمرتد."

(كتاب المرتد و البغی، ساب الرسول، ج:2، ص:294، ط:مؤسسة الرسالة)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102593
تاریخ01-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں