بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسطوں میں سامان خریدنا

سوال

کیا سُرماوالا (SurmaWala) سے سامان قسطوں پر لے سکتے ہیں؟

جواب

قسطوں پرکوئی چیزخریدنا،اگر چہ نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر ہو، جائز ہے، بشرطیکہ کل قیمت اورماہانہ اقساط ابتدا ہی میں طے کرلی جائیں اوربعد میں اس میں کسی بھی نام سے کسی قسم کا اضافہ نہ کیا جائے اورنہ ہی قسطوں کی ادئیگی میں تاخیر کی وجہ سے کوئی اضافی رقم لی جائے، یہ قسطوں پر خرید وفروخت کا اصولی جواب ہے ،باقی سرمہ والا اپنے معاملات کس طرح کرتا ہے ،اس کی مکمل تفصیل بتاکر شرعی حکم معلوم کرلیا جائے ۔

درر الحکام میں ہے:

البيع ‌مع ‌تأجيل ‌الثمن وتقسيطه صحيح."

(کتاب البیوع، المادہ: 245، ج:1،  ص:227، ط:دار الجیل)

 المبسوط للسرخسی میں ہے: 

"وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا، فہو فاسد،وہذا إذا افترقا علی ہذا، فإن کان یتراضیان بینہما ولم یتفرقا، حتی قاطَعہ علی ثمن معلوم، وأتما العقد علیہ جاز."

(ج:8، ص:13، ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102547
تاریخ14-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں