بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کا بہنوں کی شادی کرانے کے بدلے میں ان کو حق میراث سے محروم کرنا

سوال

 کیا کوئی بھائی بہنوں کی شادی وغیرہ کو جواز بنا کر ان کی جائیداد کے حصے پر قبضہ کر سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بھائی کا اپنی بہنوں کی شادی کرانے کے عوض ان کے حصۂ میراث پرقبضہ  کرنا درست نہیں ،بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ بہنوں کو میراث میں سے حصہ دے،اگر دنیا میں یہ حق ادا نہیں کیا ،تو آخرت میں دینا پڑے گا۔

حدیثِ مبارک میں کسی کے حصہ پر قبضہ کرنے سے متعلق   بڑی وعیدیں آئی ہیں ، حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی،  ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے  ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".

 ( باب الغصب والعاریة، 1/254، ط: قدیمي)

           وفیہ ایضاً: 

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".

  (باب الوصایا، الفصل الثالث، 1/266 ،ط: قدیمي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102496
تاریخ14-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں