بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی میں دولہن کو کالی پوت کا لچھا دینا

سوال

كيا شادی میں دولہن کو کالی پوت کا لچھا دینا جائز ہے؟

جواب

 کالی پوت کا لچھا (جو منگل سوتر بھی کہا جاتا ہے) در اصل ہندوانہ زیور ہے، اور غیر مسلم خواتین یہ زیور اپنے خاص اعتقادات وتوہمات کے ساتھ پہنتی ہیں، اور یہ در اصل ان کے یہاں شادی کے موقعہ پر پہنایا جاتا ہے، اور ان کا پنڈت اِس زیور پر کچھ پڑھ کر دم بھی کرتا ہے،اس میں غیروں کی مشابہت ہے، لہٰذا مسلم خواتین کو کالی پوت کا لچھا  پہنناجائز نہیں ہے، اور نہ ہی دولہن کو دینا جائز ہے۔

سنن أبي داؤد میں ہے:

"عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ”من تشبہ بقوم فہو منہم“ .

( کتاب اللباس، الفصل الثاني،ص:375،ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102465
تاریخ13-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں