بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازوں میں صاحب ترتیب کس کو کہتے ہے؟

سوال

نمازوں میں صاحب ترتیب کس کو کہتےہے؟

جواب

صاحبِ ترتیب اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ذمہ کوئی نماز واجب الاداء نہ رہی ہو یا اگر ہو تو اس کی تعداد پانچ یا اس سے کم نمازیں اس پر لازم ہوں،اسی طرح جس کے ذمہ  زیادہ نمازیں قضاء رہی ہوں اور اس نے ان کی قضاء کرکے مکمل کرلی ہو یا صرف پانچ نماز  (ایک دن کی ) رہ گئی ہوں وہ بھی صاحب ترتیب شمار ہے۔

 فتاوٰی شامی میں ہے:

"‌يسقط الترتيب بصيرورة الفوائت ستا ولو كانت متفرقة كما لو ترك صلاة صبح مثلا من ستة أيام وصلى ما بينها ناسيا للفوائت." 

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:68، ط:سعيد)

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ہے:

"(سوال:1983)صاحب ترتیب بابتِ نماز کس کوکہتےہیں؟

(جواب)صاحب ترتیب اس کوکہتےہیں کہ اس ذمہ چھ نمازیں قضانہ ہوئی ہوں،جونماز قضاہوئی بھی ہواس کوادا کرلیاہووہ صاحب ترتیب ہےیعنی اس کولازم ہےکہ اگرنماز قضاہوتواس کووقتیہ سے پہلےپڑھے۔"

(زیرعنوان:صاحب ترتیب کس کوکہتےہیں؟، کتاب الصلوۃ، ج:4، ص:250، ط:دارالاشاعت،اردو بازار کراچی پاکستان)

عمدۃ الفقہ  میں ہے :

"صاحبِ  ترتیب وہ ہے جس کے ذمہ کوئی قضا نماز نہ ہو یا پانچ نمازوں تک کی قضا اس کے ذمہ ہو خواہ وہ پانچ یا اس سے کم نمازیں نئی ہوں یا پرانی ، مسلسل ہوں یا متفرق ، یا نئی پرانی   مل کر ہوں اور خواہ  حقیقتًا قضا ہوں یا حکمًا."

(عمدۃ الفقہ ،ج:2،ص:347 ط:ادارہ مجددیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102447
تاریخ13-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں