بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعا اللھم یا مسبب الاسباب، ھیئ لنا سببا لا نستطیع له طلبا کی تحقیق

سوال

"اللھم یا مسبب الاسباب، ھیئ لنا سببا لا نستطیع له طلبا" 

مندرجہ بالا دعا کا ترجمہ بتائیں اور یہ دعا کس موقع پر پڑھنی چاہیے اور کیا یہ دعا مستند هے؟

جواب

مذکورہ دعا   کا ترجمہ :

اے اللہ، اے اسباب کے پیدا کر نے والے! ہمیں ایک  ایسا سبب مہیا کر دےجس کی   طلب اور درخواست  کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔

  یہ دعا ، اہل سنت کی کتب ميں ہمیں کہیں نہیں ملی، البتہ روافض کی کتابوں میں موجود ہے،  بہتر ہوگا کہ اس کے بجائے  احادیث مبارکہ میں وارد دعاؤں کا اہتمام کریں۔

بحار الانوار للمجلسی میں ہے:

"حرز لمولانا القائم عليه السلام: بسم الله الرحمن الرحيم يا مالك الرقاب، ويا هازم الأحزاب، يا مفتح الأبواب، يا مسبب الأسباب! سبب لنا سببا لا نستطيع له طلبا بحق لا إله إلا الله محمد رسول الله صلوات الله عليه وعلى آله أجمعين".

(بحار الانوار للمجلسي: باب بعض أدعية القائم عليه السلام (1/ 175)، ط. دار إحياء التراث العربي بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102418
تاریخ13-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں