بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پائجامہ الٹا پہن کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

پائجامہ الٹا پہن کر نماز کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

اللہ تعالیٰ کے دربار میں اچھے لباس میں جانے کا حکم ہے،  اسی لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ انسان جس لباس کو پہن کر محافل میں جانا پسندنہ کرے، اس لباس کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہ  تنزیہی ہے؛ لہذا  صورتِ  مسئولہ  میں پائجامہ الٹا پہن کر نماز پڑھنا مکروہِ  تنزیہی ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"{خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ}."(الأعراف: 31)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصلاته في ‌ثياب ‌بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها وإلا لا

(قوله وصلاته في ثياب بذلة)بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر حلية. قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية."

(کتاب الصلوۃ ، باب مایفسد الصلوۃ و مایکرہ فیها جلد 1 ص: 640 ، 641 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102409
تاریخ13-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں