بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ تعالی کا اپنے بندے کی توبہ پر بے حد خوش ہونے سے متعلق ایک حدیث کی تخریج

سوال

کیا درج ذیل حدیث ،احادیث کی کتابوں میں موجود ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ سبحانہ و تعالٰی اپنے بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی اپنی گمشدہ سواری کو جنگل میں پا لینے سے خوش ہوتا ہے‘‘۔

جواب

سوال میں آپ نے جس حدیث کے بارے میں دریافت  کیا ہے، یہ حدیث "صحيح البخاري"،"صحيح مسلم"،"سنن الترمذي"، "سنن النسائي"، "سنن ابن ماجه" ودیگر کتبِ احادیث میں کہیں مختصراً، اور کہیں تفصیلاً مذکور ہے۔آپ نے جو الفاظ ذکر کیےہیں، بعینہ یہی الفاظ "صحيح مسلم"  کی  درج ذیل حدیث  میں مذکور ہیں:

"حدّثني سُويد بن سعيد، حدّثنا حفص بن مَيسَرة، حدّثني زيد بن أسلم عن أبي صالحٍ عن أبي هريرة-رضي الله عنه- عن رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم- أنّه قال: قال الله عزَّ وجلَّ: أنا عِند ظنّ عَبدي بِيْ، وأنا معه حيثُ يذكرُنيْ، ۔واللهِ! للهَ أفرحُ بِتوبةِ عبده مِن أحدِكم يجِدُ ضالَّتَه بِالفَلاة۔، ومَن تقرَّب إليَّ شِبراً تقرَّبتُ إليه ذِراعاً، ومَن تقرَّب إليَّ ذِراعاً تقرَّبتُ إليه َباعاً، وإذا أقبل إليَّ يمشي أقبلتُ إليه أُهروِلُ". 

(صحيح مسلم، كتاب التوبة، باب في الحض على التوبة والفرح بها، 4/2102، رقم:2675، ط: دار إحياء التراث العربي-بيروت)

ترجمہ:

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں:میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں،اور میں اس کے ساتھ ہوں جہاں کہیں وہ مجھے یاد کرے۔(پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا):اللہ کی قسم!یقیناً اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ  پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی اپنی گمشدہ سواری کو جنگل میں پا لینے سے خوش ہوتا ہے۔( اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں): جو ایک بالشت میرے قریب ہوتاہےتو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں،اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دوہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں،اور جب وہ میری طرف چل کرآتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کرآتا ہوں‘‘۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102370
تاریخ13-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں