بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا تکبیر اولی کی فضیلت کے لیے مسجد کی جماعت کا ہونا شرط ہے؟

سوال

هل يلزم جماعة المسجد لفضيلة التكبيرة الأولي؟

کیا تکبیر ِاولی کی فضیلت کے لیے مسجد کی جماعت کا ہونا شرط ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر کسی معتبر عذر کی وجہ سے کسی شخص کی مسجد کی جماعت رہ جائے اور وہ جماعت کی نماز اور تکبیرِ اولیٰ کے ثواب کے حصول کے لیے گھر والوں کو جمع کرکے، یا کچھ افراد جمع ہوکر مسجدِ شرعی کی حدود سے باہر جماعت سے نماز ادا کرے  تو امید ہے کہ اللہ تعالی تکبیرِ اولی کا ثواب عطا فرمائیں گے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

"سوال: چالیس دن تکبیر اولی کے ساتھ نماز پڑھنے کی جو فضیلت آئی ہے، اب اگر ایک آدمی سے اس دوران میں جماعت کی نماز فوت ہوجائے، اور وہ گھر آکر اپنی مستورات کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرے، یا مسجد میں دو تین ساتھی مل کر مسجد کے ایک کونے میں باجماعت نماز ادا کریں، یا سری نماز میں پہلی رکعت کے رکوع سے تھوڑا پلے امام کے ساتھ شریک ہوجائے، تو کیا اس کو تکبیر اولی چالیس دن کی فضیلت حاصل ہوئی؟

جواب: ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی پورا اجر عطا فرمادیں، لیکن چالیس دن کی تکبیر تحریمہ کے ثواب کی نئے سرے سے نیت کرنی چاہیے۔"

(نماز کی فرضیت و اہمیت، جلد سوم، صفحہ 193، ط: مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102289
تاریخ12-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں