بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی سے نکاح کرنا

سوال

اپنے سے آٹھ سال بڑی عمر کی لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا کیسا ہے؟ نیز نکاح کے لیےبہتر کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بہتر تو یہ ہے کہ کنواری اور ہم عمر عورت سے شادی کی جائے، كيوں كہ نکاح کے مصالح کے حصول اور مابعد کی زندگی کے لیے یہ زیادہ مناسب ہے، تاہم بڑی عمر کی خاتون یا بیوہ سے نکاح کرنابھی جائز ہے، خود رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے جب نکاح کیا تو آپ ﷺ کی عمر 25 سال اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی ۔

بخاری شریف میں ہے:

"حدثنا ‌قتيبة: حدثنا ‌سفيان: أخبرنا ‌عمرو، عن ‌جابر قال: «قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌هل ‌نكحت يا جابر؟ قلت: نعم. قال: ماذا أبكرا أم ثيبا؟ قلت: لا بل ثيبا، قال: فهلا جارية تلاعبك. قلت: يا رسول الله، إن أبي قتل يوم أحد، وترك تسع بنات، كن لي تسع أخوات، فكرهت أن أجمع إليهن جارية خرقاء مثلهن، ولكن امرأة تمشطهن وتقوم عليهن، قال: أصبت»".

(كتاب المغازي، ‌‌باب {إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا والله وليهما وعلى الله فليتوكل المؤمنون}، 5/ 96، رقم الحدیث: 4052، ط: دار طوق النجاة)

فتاوی شامی میں ہے :

"و يندب إعلانه و تقديم خطبة و كونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد و شهود عدول، و الاستدانة له و النظر إليها قبله، و كونها دونه سنًّا و حسبًا و عزًّا، و مالًا و فوقه خلقًا و أدبًا.

 (قوله: دونه سنًّا) لئلايسرع عقمها فلاتلد."

(كتاب النكاح، 3/ 8، ط: سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102167
تاریخ10-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں