بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضرت معاویہ کو برا بھلا کہنا

سوال

حضرت امیر معاویہ کو غلط یا برا بھلا کہنا درست ہےکہ نہیں؟

جواب

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا کسی بھی صحابی کو برا بھلا کہنا اور ان کو تنقید وملامت کا نشانہ بنانا یقینا موجب فسق وضلالت ہے؛ لیکن اس سے آدمی کافر ومرتد نہیں ہوتا بشرط یہ ہے کہ اس سب وشتم وغیرہ کو جائزیا کارثواب نہ سمجھتا ہو،ورنہ وہ شخص کافر ہے۔

مجموعہ رسائل ابن عابدین میں ہے:

"وأما من سب أحدا من الصحابة فهو فاسق مبتدع بالإجماع إلا إذا اعتقد أنه مباح أو یترتب علیه ثواب کما علیه بعض الشیعة أو اعتقد کفر الصحابة فإنه کافر بالإجماع... إھ"

( تنبیہ الولاة والحکام ج1،ص367،ط؛سہیل اکیڈمی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102115
تاریخ10-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں