بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حلال جانور کی کھال کا دباغت سے پہلے پانی میں گرنا

سوال

اگر حلال جانور مثلاً گائے، بکری وغیرہ کا چمڑا/ کھال دباغت دیے بغیر اگر پانی میں گرجائے تو  کیا پانی ناپاک ہو جائے گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کھال ذبح شدہ جانور کی ہو اور اس پر کوئی ظاہری ناپاکی ہو اور وہ ماءِ قلیل (225 اسکوائر فٹ سے کم) میں گر جائے تو اس کاسارا پانی ناپاک ہو جائے گا، اور اگر وہ  کھال ماءِ کثیر (225 اسکوائر فٹ یا اس سے زیادہ ) میں گرے  اور ناپاکی کا اثر ظاہر نہ ہو تو پانی ناپاک نہ ہوگا ، البتہ اگر کھال پر کوئی ظاہری ناپاکی نہ ہو تو اس کے پانی میں گرنے سے پانی ناپاک نہ ہوگا، چاہے پانی قلیل ہو یا کثیر۔

المحيط البرهاني للإمام برهان الدين  میں ہے:

"يجب أن يعلم أن الماء الراكد إذا كان كثيراً فهو بمنزلة الماء الجاري لايتنجس جميعه بوقوع النجاسة في طرف منه إلا أن يتغير لونه أو طعمه أو ريحه. على هذا اتفق العلماء، وبه أخذ عامة المشايخ، وإذا كان قليلاً فهو بمنزلة الحباب والأواني يتنجس بوقوع النجاسة فيه وإن لم تتغير إحدى أوصافه". 

(کتاب الطهارۃ، باب المیاہ، ج:1، ص:87، ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102074
تاریخ09-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں