بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید کی نماز سے پہلے وعظ و نصیحت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

سوال

عید کے نماز سے پہلے وعظ و نصیحت کرنا جائز ہے یا نہیں؟  دلیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں !

جواب

واضح رہے کہ عیدین کی نماز میں  مسلمانوں کا ایک بڑا اجتماع ہوتا ہے ،یہ  لوگوں تک دینی احکامات پہنچانے کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے ، اس لیے ہمارے یہاں نماز  سے قبل مقامی زبان میں وعظ  و نصیحت کا معمول بنایا گیا؛ تاکہ  اللہ کے احکامات اس کے بندوں تک پہنچانے کے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جاسکے ،  لہذا صورت مسئولہ  عیدین کی نماز کا جزء  سمجھے بغیر عیدین سے پہلے وعظ و نصیحت کی جائے   تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌بلغوا ‌عني ‌ولو ‌آية وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج ومن كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار."

(كتاب العلم،‌‌الفصل الأول،ج:1،ص:70،ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

المفاتيح في شرح المصابيح میں ہے:

"قوله: "بلغوا عني"، (بلغوا): أمر المخاطبين، من التبليغ، وهو إيصال الخبر إلى أحد، (الآية) لها معان كثيرة، ومعناها ها هنا: كل كلام مفيد، نحو قوله: "من صمت نجا" و"‌الدين ‌النصيحة.يعني: بلغوا عني أحاديثي إلى أمتي ولو كان قليلا، وهذا تحريض على نشر العلم وتعليم الناس العلم وأحكام الدين ونشر الحديث."

(كتاب العلم،ج:1،ص:297،ط:وزارة الأوقاف الكويتية)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102069
تاریخ09-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں