بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

راکنہ نام رکھنا صحیح ہے یا نہیں ؟

سوال

راکنہ نام رکھنا صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب

راکنہ یہ رکن سے اس فاعل مؤنث کا صغہ ہے ، اس کا معنی :کسی کی طرف مائل ہونا، اور مطمئن ہونا،کسی پر بھروسہ کرنا  ،کسی کا سہارا لینا، الگ نہ ہوناہیں،یہ نام رکہنا درست ہے لیکن معنوی لحاظ سے اتنا اچھا نہیں لہذا  بہتر یہ ہے کہ  لڑکے  کا نام انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے ناموں میں سے  کسی نام پر رکھا جائے، اور لڑکی کا نام رکھنا ہو تو صحابیات مکرمات رضی اللہ عنہن یا نیک خواتین کے نام پر  رکھا جائے،مزید راہ نمائی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر  موجود اسلامی نام کے حصہ سےاستفادہ کیا جا سکتا ہے۔

المعجم الوسيط میں ہے:

"(‌ركن)إِلَيْهِ ركنا وركونا مَال إِلَيْهِ وَسكن وَاعْتمد عَلَيْهِ.(‌ركن) إِلَيْهِ ركنا وركونا ‌ركن وَفِي الْمنزل ركنا أَقَامَ بِهِ فَلم يُفَارِقهُ."

(‌‌بَاب الرَّاء، ج:1،ص:370،ط:دار الدعوة)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102068
تاریخ09-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں