بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کو قسم کے ساتھ معلق کرنا

سوال

اگر کسی آدمی نے قسم کھائی کہ میں فلاں شخص سے بات نہیں کروں گا اگر بات کی تو میری بیوی کو طلاقیں اب اس شخص نے عدد کا ذکر نہیں کیا لیکن صرف جمع کا صیغہ(طلاقیں) استعمال کیا ہے کیا حانث ہونے سے ایک طلاق واقع ہوگی یا تین ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص قسم میں حانث ہوگیا تو اس کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوں گی البتہ اگر وہ دوطلاقوں کی نیت بیان کرے اور اس پر حلف بھی اٹھالے تو پھر اس کے قول کا اعتبار کرتے ہوئے  دوطلاقیں واقع ہوں گی ۔

مجمع الأنہر میں ہے :

"(ولو قال) لا أكلمه (أياما أو شهورا أو سنين فعلى ثلاثة) من كل صنف بالإجماع، وهو رواية الجامع الكبير، وهو الأصح؛ لأنها ‌أقل ‌الجمع ".

(‌‌كتاب الأيمان ، باب اليمين في الأكل والشرب واللبس والكلام ج:1ص:569ط:دار إحياء التراث العربي)

الأشباوہ النظائر  میں ہے :

"لو كان اسمها طالقا، أو حرة فناداها إن قصد الطلاق، أو العتق وقعا، أو النداء فلا، أو أطلق فالمعتمد عدمه ولو كرر لفظ الطلاق فإن قصد الاستئناف وقع الكل، أو التأكيد فواحدة ديانة، والكل قضاء وكذا إذا أطلق ولو: قال أنت طالق واحدة في ثنتين فإن نوى مع ثنتين دخل بها أولا وإلا فإن نوى وثنتين فثلاث إن كان دخل بها وإلا فواحدة".

(‌‌الفن الأول: القواعد الكلية  ، ‌‌القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها ، ‌‌قاعدة في الأيمان ص:46 ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102046
تاریخ09-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں