بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فاریہ نام رکھنے کا حکم

سوال

 میری بیٹی کا نام ' فاریہ' ہے، کیا یہ نام رکھنا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

''فاریہ''  ''فری'' سے مشتق ہے جس کے مختلف معانی   ملتے ہیں ،بعض اچھے ہیں اور اکثر نامناسب، مثلاً: ریزہ ریزہ اور چورہ کرنے والی، توشہ دان بنانے والی، جھوٹی بات گھڑنے والی، تہمت لگانے والی، زمین پر چلنے والی، گزرنے والی، حیران عورت وغیرہ ؛ اس لیے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے،  اس نا م کے بجائے  "فارحہ"  (خوش رہنے والی) رکھا جا سکتا ہے۔ یا صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین میں سے کسی کے نام پر نام رکھ دیں۔

'معجم اللغة العربية المعاصرة' میں ہے:

"فرَى الشَّيءَ:

1 - شقَّه وقطَعه "فرَى بطن الشاة".

2 - فتّته، قطّعه قطعًا صغيرة "فرَى اللحمَ/ البصلَ".

• فرَى القولَ: اختلقه، كذب...

ف ر ي

افتراء [مفرد]: ج افتراءات (لغير المصدر):

1 - مصدر افترى.

2 - اتّهام كاذب  "تبرَّأ من افتراء- لم يكن ما قالوه سوى افتراءات".

فري [مفرد]: ج أفرياء:

1 - شخص مختلق كاذب "لم يصدقه أحد لأنه فري".

2 - أمر مختلق مصنوع "أتى بشيء فري- {لقد جئت شيئا فريا} ".

3 - أمر عجيب، عظيم، محير " {قالوا يامريم لقد جئت شيئا فريا} " فلان يفري الفري: يأتي بالعجب في عمله."

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501102011
تاریخ09-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں