بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صلوۃ الخوف کا حکم کب نازل ہوا؟

سوال

 صلواۃ الخوف کا حکم کب اور کس مقام پر ہوا؟

جواب

صلوۃ الخوف کا حکم غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر نازل ہوا،  لیکن غزوہ ذات الرقاع کی تاریخ میں بہت اختلاف ہے، ايك قول یہ ہے  کہ غزوہ ذات الرقاع ــ جمادی الاولی سن چار ہجری میں ہوا،دوسرا قول يہ ہے  کہ محرم الحرام سن پانچ ہجری میں ہوا، تيسرا قول یہ ہے  کہ غزوہ  خیبر کے بعد سن سات ہجری میں ہوا۔

عمدة القاری میں ہے:

"واختلفوا في أي سنة نزل بيان صلاة الخوف؟ فقال الجمهور: إن أول ما صليت في غزوة ذات الرقاع، قاله محمد بن سعد وغيره. واختلف أهل السير في أي سنة كانت؟ فقيل: سنة أربع، وقيل: سنة خمس، وقيل: سنة ست، وقيل: سنة سبع، فقال محمد بن إسحاق كانت أول ما صليت قبل بدر الموعد، وذكر ابن إسحاق وابن عبد البر أن بدر الموعد كانت في شعبان من سنة أربع. وقال إبن إسحاق: وكانت ذات الرقاع في جمادي الأولى، وكذا قال أبو عمر ابن عبد البر: إنها في جمادى الأولى سنة أربع."

(کتاب الخوف جلد 6 ص: 255 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101989
تاریخ09-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں