بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

11 سال کی عمر میں لڑکے کے بغل کے بال آگئے

سوال

گیارہ سال کی عمر کے لڑکے کے اگر بغل کے بال آجائیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں گیارہ  سال کی عمر میں اگر بغل کے بال آجائیں تو جسم کی صفائی کے پیشِ نظر انہیں صاف کر لینا چاہیے۔ اور اگر سوال کا مقصد اس کے بالغ ہونے کے متعلق پوچھنا ہے تو جاننا چاہیے کہ محض بغل کے بال آجانے سے لڑکا بالغ نہیں ہوتاجب تک کہ علامت ِ بلوغ (احتلام) ظاہر نہ ہو۔ اور فقہاءِ کرام نے لڑکے کے لیے بلوغت کی کم سے کم عمر بارہ سال لکھی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: و يستحب حلق عانته) قال في الهندية: و يبتدئ من تحت السرة و لو عالج بالنورة يجوز، كذا في الغرائب. و في الأشباه: و السنة في عانة المرأة النتف.

(قوله: و تنظيف بدنه) بنحو إزالة الشعر من إبطيه و يجوز فيه الحلق والنتف أولى. وفي المجتبى عن بعضهم: و كلاهما حسن، و لايحلق شعر حلقه، و عن أبي يوسف: لا بأس به ط."

(كتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراءوغيره، فصل فى البيع، فروع، ج:6، ص:406، سعيد)

و فیہ:

"و أما نهود الثدي فذكر الحموي أنه لايحكم به في ظاهر الرواية، و كذا ثقل الصوت، كما في شرح النظم الهاملي أبو السعود، و كذا شعر الساق و الإبط و الشارب."

(كتاب الحجر، ج6، ص153، سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101975
تاریخ09-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں