بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی ساس سے نکاح

سوال

 میرا سوال یہ ہے  کہ سسرکے مرنےبعد ناسگہ ساس سے داماد کو نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟۔ جس سے سگی ساس کے مرنے بعد  سسر نے نکاح کیا تھا ۔پھر دو یا تین سال گزار نے کے بعد سسر بھی فوت ہوگیا ۔ ناسگہ ساس کی شادی سے پہلے داماد کی شادی ہوئی تھی۔اورناسگہ ساس پہلی ساس کی نہ بہن ہے اور نہ  کوئی اور رشتہ ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں داماد کا اپنے سسر کے انتقال کے بعد اپنی  سوتیلی ساس(بیوی کی سوتیلی والدہ) سے شادی کرنا جائز ہے۔

 بدائع الصنائع میں ہے:

"معنى قوله تعالى:{وأحل لكم ما وراء ذلكم} أي : ما وراء ما حرمه الله تعالى ... و يجوز الجمع بين امرأة و بنت زوج كان لها من قبل، أو بين امرأة و زوجة كانت لأبيها و هما واحد؛ لأنه لا رحم بينهما فلم يوجد الجمع بين ذواتي رحم."

(فصل أنواع الجمع بين ذوات الأرحام منه جمع في النكاح، ج:2، ص:263، ط:دارالكتب العلمية)

 البحر الرائق میں ہے:

"مثل المرأة وبنت زوجها أو امرأة ابنها فإنه يجوز الجمع بينهما عند الأئمة الأربعة، وقد جمع عبد الله بن جعفر بين زوجة علي وبنته ولم ينكر عليه أحد، "

(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ،فصل في المحرمات بالنكاح، ج:3، ص:105، ط:دارالمعرفة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101960
تاریخ09-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں