بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محمد عبداللہ نام رکھنے کا حکم

سوال

بچے کا نام محمد عبداللہ رکھنا کیسا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کے عبداللہ سے پہلے محمد لگانا ٹھیک نہیں، رہنمائی فرمائیں۔

جواب

"مُحَمَّد" کا معنی ہے:بہت تعریف کیا جانے والا۔ (القاموس الوحید، المادّہ: حمد، ص:373، ط:ادارۃ الاسلامیات)

"محمد" حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منتخب فرمایا۔

"عبداللہ" کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کا بندہ، یہ نام بھی حدیث شریف کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ناموں میں سے ہیں۔

لہذا بچے کا نام محمد عبداللہ رکھنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ بہتر بھی ہے۔

فتاوی شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"(ومن كان اسمه محمدا لا بأس بأن يكنى أبا القاسم) لأن قوله - عليه الصلاة والسلام - «سموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي» قد نسخ لأن عليا - رضي الله عنه - كنى ابنه محمد بن الحنفية أبا القاسم.

(قوله: أحب الأسماء إلخ) هذا لفظ حديث رواه مسلم وأبو داود والترمذي وغيرهم عن ابن عمر مرفوعا. قال المناوي وعبد الله: أفضل مطلقا حتى من عبد الرحمن، وأفضلها بعدهما محمد، ثم أحمد ثم إبراهيم اهـ".

(کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، ج:6، ص:417، ط:دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101852
تاریخ08-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں