بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز سنتوں کے بغیر پڑھنے کاحکم

سوال

میں سفر میں ہوں،  تقریباً 300کلومیٹر گھر سے دور ہوں،  صبح کی نماز میں لیٹ ہو گیا،  طلوعِ  آ فتاب  سے دو تین منٹ پہلے گوگل پر ٹائم چیک کیا تو وقت کی کمی کی وجہ سے دوفرض ادا  کیے،  کیا نماز ہو گئی سنتوں کے بغیر ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل  وقت کی کمی کی وجہ سے فجر کی  سنتیں  نہیں پڑھ سکا  اور فجر کی نماز پڑھ لی تو اس صورت میں   فجر کی نماز ہو گئی ہے ، البتہ اگر اکبھی سنتیں  رہ جائیں تو  اسی دن زوال سے قبل  سنتوں کی قضا  کرلی جائے ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وقت الفجر من الصبح الصادق وهو البياض المنتشر في الأفق إلى طلوع الشمس".

(كتاب الصلاة، الباب الأول فى المواقيت، ج:1، ص:51، ط:مکتبه رشیدیه)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101807
تاریخ07-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں