بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خریدار کا مبیع میں عیب نکال قیمت کم کرانے کا حکم

سوال

کسی چیز کی قیمت کم کروانے کی غرض سے خریدار کا اس میں طرح طرح کے عیب نکال کر قیمت کم کروانا درست ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت نے تجارت کے موقع پر بھاؤ تاؤ کرنے کی اجازت دی ہے،لیکن محض سستا لینے کے لیے کسی چیز میں زبردستی عیب نکالنا،جب کہ حقیقیت میں عیب موجود نہ ہو،تو اس طرح سے کسی مسلمان کو نقصان دینا اور خود نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے،البتہ اگر عیب واقعۃًموجود ہو تو قیمت میں کمی کرانا جائز ہے۔

الہدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:

"قال: البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي، مثل أن يقول أحدهما: بعت، والآخر: اشتريت؛ لأن البيع إنشاء تصرف، والإنشاء يعرف بالشرع والموضوع للإخبار قداستعمل فيه فينعقد به. ولاينعقد بلفظين أحدهما لفظ المستقبل والآخر لفظ الماضي، بخلاف النكاح، وقد مر الفرق هناك. وقوله: رضيت بكذا أو أعطيتك بكذا أو خذه بكذا، في معنى قوله: بعت واشتريت؛ لأنه يؤدي معناه، والمعنى هو المعتبر في هذه العقود، ولهذا ينعقد بالتعاطي في النفيس والخسيس هو الصحيح؛ لتحقق المراضاة." 

(كتاب البيوع، كيفية انعقاد البيع، ج:3 ص:23 ط: دار الإحياءالتراث العربی) 

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101686
تاریخ06-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں