بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حمل میں سورۃ یوسف اور سورۃ مریم کی تلاوت کرنا

سوال

 آج کل بعض خواتین کا نظریہ بنا ہوا ہے کہ دورانِ حمل سورۃ یوسف اور سورۃ مریم پڑھنے سے بچے خوبصورت پیدا ہوتے ہیں، حمل و زچگی میں آسانی ہوتی  ہے ، کیا ایسا کرنا درست ہوگا؟ اور کیا ان سورتوں کے یہ فضائل قرآن و حدیث سے ثابت ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  حاملہ عورت کے لیے "سورۃ یوسف" اور "سورۃ مریم" کے پڑھنے کی کوئی خاص فضیلت کسی آیت مبارکہ یا حدیث شریف سے ثابت نہیں ہے، ممکن ہے کسی بزرگ کے مجربات میں سے ہو، لہذا اگر کوئی خاتون حالتِ حمل میں بطور علاج   سورۂ یوسف اور سورۃ مریم کی تلاوت کرنا چاہتی ہو تو جس بزرگ نے یہ عمل بتایا ہو اُن کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق  پڑھ لے تو  شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ اس موقع پر عمل کو کار ثواب اور  لازم نہ سمجھا جائے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101682
تاریخ06-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں