بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مال تجارت کی زکات میں کس قیمت کا اعتبار ہے ؟

سوال

زکات کی ادائیگی کے وقت کاروباری سرمایہ کی کون سی قیمت معتبر مانی جائے گی ، قیمت فروخت یا قیمت خرید ؟

جواب

 مالِ  تجارت کی زکات کی ادائیگی میں قیمتِ فروخت کا اعتبار ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو سامانِ تجارت موجود ہے ، زکاۃ کی ادائیگی کے وقت بازار میں اس کی جو قیمتِ فروخت  ہوگی، اس حساب سے اس کی زکاۃ ادا کی جائے گی۔

در مختار وحاشیۃ ابن عابدین میں ہے :

"(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح."

(کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ الغنم،ج:2،ص:286،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101648
تاریخ06-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں