بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کا وائی فائی اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے کا حکم

سوال

کسی شخص کا وائی فائی پاسورڈ یا انٹرنیٹ کوڈ معلوم کرکے اس کو بتائے بغیر اس کا انٹرنیٹ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

کسی دوسرے شخص کا وائی فائی اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا شرعًا ناجائز  ہے۔

مسند احمد میں ہے:

"لا يحل مال امرئ ‌إلا ‌بطيب ‌نفس منه."

(‌‌‌‌‌‌حديث عم أبي حرة الرقاشي، ج:34، ص:299، ط: المكتب الإسلامي)

دررالحکام میں ہے:

" لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه‌ لا ‌يجوز ‌لأحد ‌أن ‌يتصرف ‌في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، (المادة 96): لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه، ج: 1 ص: 27 ط: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101633
تاریخ06-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں