بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انشراح نام رکھنے کا حکم

سوال

اکثر لوگ بچی کا نام "انشراح" رکھتے ہیں ، درست ہے ؟

جواب

اِنشِرَاح نام کا معنیٰ ہے:کشادہ ہونا/ واضح ہونا۔ (القاموس الوحید، المادّۃ: ش/ر/ح، ص:853، ط:ادارۃ الاسلامیات)

معنیٰ کے اعتبار سے بچی کا نام انشراح رکھنے میں حرج نہیں ہے، تاہم مذکورہ نام کے بجائے صحابیات  کے ناموں میں سے کوئی نام رکھنا بہتر ہے،  جامعہ کے ویب سائٹ پر اسلامی نام کے عنوان سے ایپلیکیشن موجود ہے جس میں آپ اپنی مرضی کے نام کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهندية) میں ہے:

"وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط."

(کتاب الکراهیة،الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد ، ج:5، ص:362، ط:مکتبه رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101543
تاریخ05-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں