بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق کے بعد تین ماہواری کے گزرنے سے نکاح کا حکم

سوال

میرے شوہر نے  مجھے15-6-2023کو31-5-2023کی لکھی ہوئی طلاق بجھوائی۔ 2-6-2023کو پہلے ایام مخصوص30-6-2023کودوسری ماہوای  اور30-7-2023کو تیسری دفعہ۔ اب اس بارے کیا حکم ہے؟

وضاحت: طلاق نامہ میں ایک طلاق درج تھی۔

جواب

واضح رہے کہ جس وقت زبانی طلاق دی جائے یا طلاق نامہ کی تحریر لکھی جائے اسی وقت سے مطلقہ کی عدت شروع ہوجاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر  شوہر نے مؤرخہ 31-5-2023 کی تحریرشدہ طلاق نامہ سائلہ کو بھیجا تو شرعا طلاق نامہ جس تاریخ کو لکھا گیا تھا اس تاریخ کے بعد سے تین ماہواری کے گزرنے سے سائلہ کا  نکاح ختم ہوگیا،لہذا مذکورہ تحریری طلاق نامہ کے بعد اگر تیسری ماہواری ختم ہوگئی ہو تو نکاح ٹوٹ گیا ہے، اب رجوع جائز نہیں۔ سائلہ عدت کے مکمل ہونے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے،اور اگر  سابقہ شوہر کے ساتھ نباہ کی کوئی صورت بن جائے تو  شرعی گواہوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ہوگا ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"فإن طلقها ‌ولم ‌يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت."

(كتاب الطلاق، فصل في بيان حكم الطلاق: 3/ 283، ط: رشیدیه)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ‌ممن ‌تحيض فعدتها ثلاثة أقراء."

(الباب الثالث عشر في العدة: 1/ 526، ط: ماجدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101536
تاریخ05-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں