بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذھان اور ذھان نام رکھنا

سوال

ہم نے اپنے بیٹے کا نام محمد اذھان رکھا ہے، لیکن یہ نام سب اذھان کی بجائے ذوھان اور اذان کہتے ہیں،  کیا یہ نام  رکھنا چاہیے؟

جواب

"اَذْہان" عربی زبان کا لفظ ہے، یہ "ذہن" کی جمع ہے، جس کا معنی: سمجھنا  ہے،  یہ نام رکھنا اگرچہ جائز ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ کوئی دوسرا اچھا نام مثلاً انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کے نام پر نام رکھ لیا جائے۔

ذوہان نام تلاش  کےباوجود  اردو ،  عربی اور فارسی  لغات میں نہیں ملا ، البتہ لفظ ذوحان عربی زبان کا لفظ ہے،  جس  کا معنی  ہے  تیز چلنا، سختی سے چلنا۔ اس لیے  یہ نام رکھنا  مناسب  نہیں  ہے۔

اَذَان" کامعنٰی ہے: اعلان/ پنج وقتہ نماز کے اعلان کے مخصوص کلمات۔  بچے کے نام کے لیے  یہ  نام بھی مناسب نہیں ہے۔

"لسان العرب" میں ہے:

"( ذهن ) الذهن الفهم و العقل و الذهن أيضًا حفظ القلب و جمعهما أذهان."

( ج: 13، ص: 174، ط: دار صادر)

"المعجم الوسیط" میں ہے:

"ذاح - ُُ ذَوحاً : سار سیراً سریعاً أو عنیفاً."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101493
تاریخ03-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں