بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کے بعد سورۃ یٰسن پڑھنا

سوال

فجر کے بعد یٰسین شریف کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں صبح کے وقت سورہ یٰس کی تلاوت کرنا فضلیت اور  برکت کا باعث ہے ، لہذا جوشخص صبح  سورہ  یس  کی تلاوت کرتا ہے تو  اس کی حاجات پوری ہوتی ہیں، اسی طرح حضرت  ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  کہ جوشخص  صبح کے وقت سورہ  یٰس پڑھتا ہے،  اس کو  شام تک خوشی دی جاتی ہے اورجو  رات کے ابتدائی حصہ میں پڑھتا ہے تو وہ  خوشی صبح ہونے تک رہتی ہے ۔

 سنن الدارمي ميں  ہے: 

"عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ،قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ :« مَنْ قَرَأَ یٰس فِي صَدْرِالنَّهَارِ، قُضِیَتْ حَوَائجُهُ»".  

وفیہ ایضا:

"قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «‌مَنْ ‌قَرَأَ ‌يس حِينَ يُصْبِحُ، أُعْطِيَ يُسْرَ يَوْمِهِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَرَأَهَا فِي صَدْرِ لَيْلِهِ، أُعْطِيَ يُسْرَ لَيْلَتِهِ حَتَّى يُصْبِحَ»".  

(باب فی فضل یس،2151/2150/4،دار المغني)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101468
تاریخ03-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں