بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محمد ثنان نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

محمد ثنان نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ثنان کا  اصل تلفظ  س سے سنان ہے ، السِنَان(س کے زیر سے) اس کا معنی ہے نیزے کا پھل ، دھار رکھنے اور تیز کرنے کا اوزار ، اور  ثنان یہ الثِّنُّ کی جمع ہے جس کا معنی ہے سوکھی گھاس ، کمزور پودا ، ٹوٹنے کے قابل پودا ، اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ، البتہ بہتر یہ ہے کہ سنان نام  رکھاجائے ، کیوں کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان میں سے بہت سارے صحابہ کا یہ نام ہے ۔

معجم الوسيط میں ہے :

"(‌الثن) يبيس الحشيش وضعيف النبات وهشه وإن لم يكن يابسا (ج) ثنان".

(باب الثاء ج: 1 ص: 101 ط: دار الدعوة)

وفیہ ایضا:

"(‌السنان) نصل الرمْح وكل مَا يسن عَلَيْهِ السكين وَغَيره (ج) أسنة".

(باب السین ج: 1 ص: 456 ط: دار الدعوة)

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے :

"سنان بن تيم الجهني ‌حليف ‌بني ‌عوف ‌بن ‌الخزرج، وقيل: سنان بن وبرة. غزا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المريسيع، وهي غزوة بني المصطلق، وكان شعارهم يومئذ: يا منصور، أمت أمت".

(حرف السین ، باب السین و النون ج: 2 ص: 559 ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144501101408
تاریخ02-08-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں